یوکرین کی پرواز کا گرایا جانا ایران کی ’دہشتگردی‘ تھی: کینیڈین عدالت

کینیڈا کی ایک عدالت نے جمعرات کو فیصلہ سنایا ہے کہ یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائن کی پرواز پی ایس 752 کو گرایا جانا ’دہشتگردی‘ تھی اور اس فیصلے سے متاثرین کے اہلِ خانہ کے لیے معاوضے کی ادائیگی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کینیڈا کی عدالت نے پتا لگایا ہے کہ آٹھ جنوری 2020 کو ایران کے دارالحکومت تہران سے پرواز بھرنے کے بعد جہاز پر دو میزائلوں کا حملہ ’جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔‘
مزید پڑھیں
جسٹس ایڈورڈ بیلوبابا کا کہنا تھا کہ ’مدعی نے پتا لگایا ہے کہ پرواز پی ایس 752 کا گرایا جانا دہشتگردی تھا۔‘  
وکلا مارک اور جوناہ آرنلڈ نے ایک بیان میں کہنا تھا کہ بچ جانے والے افراد کے لیے یہ فیصلہ اہم ہے۔
ایک اعشاریہ 25 ارب ڈالر کا مطالبہ کرنے والی یہ قانونی کارروائی چار افراد کی جانب سے سامنے لائی گئی، جن کے اہلِ خانہ ہلاک ہونے والے افراد میں شامل تھے، جہاز میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ہلاک ہونے والوں میں 85 کینیڈین شہری بھی شامل تھے۔ ان چار افراد نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے امریکہ کی جانب سے اسلامی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ’جواب میں ایران کی جانب سے‘ کیے گئے تھے۔
مارچ میں ایک حتمی رپورٹ میں ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اس وقت میزائل حملوں اور اپنے فوجیوں کے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران ’چوکنا‘ ہونے کا ذکر کیا تھا۔

کینیڈا کی عدالت نے پتا لگایا ہے کہ آٹھ جنوری 2020 کو جہاز پر دو میزائلوں کا حملہ ’جان بوجھ کر کیا گیا تھا‘۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
اس واقعے میں یوکرین کے 11 شہری ہلاک ہوئے تھے اور وہاں کی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کی رپورٹ حادثے کی حقیقی وجہ چھپانے کی کوشش تھی۔ جبکہ کینیڈا کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں کوئی بھی ’ثبوت اور حقائق‘ نہیں اور وعدہ کیا تھا کہ اپنے تحقیق کے نتائج ضرور جاری کرے گا۔
ایران نے عدالت میں اپنے حق میں کوئی بیان نہیں دیا لیکن اس بات کو تسلیم کیا کہ ایرانی فورسز نے کیو جانے والے بوئنگ جہاز 800-737 کو مار گرایا تھا۔
معاوضے کی رقم کا فیصلہ آنے والی سماعت میں کیا جائے گا۔