29 مئی کو جونیجو حکومت ختم ہوئی مگر ضیاء الحق سے جھگڑا کیوں شروع ہوا؟

29  مئی 1988 کی شام اسلام آباد ایئرپورٹ کا وی آئی پی لاؤنج مقامی صحافیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو چین، جاپان اور فلپائن کے طویل دورے سے واپسی پر میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔
اچانک کچھ سینیئر صحافی ایک ایک کر کے کمرے سے غائب ہونے لگے۔ ایئرپورٹ کی عمارت سے باہر نکلتے ہی انہوں نے افراتفری اور تیزی میں ایوان صدر کی راہ لی۔ 
وزیراعظم پاکستان کی پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر پریزیڈنٹ ہاؤس کی طرف لپکنے کی وجہ ایک دھماکہ خیز خبر کی تصدیق اور تفصیل کا حصول تھا۔ 
مزید پڑھیں
  • سیاسی، عسکری قیادت کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ملکی اور علاقائی صورتحال پر غور

    Node ID: 568151

  • ’اے این پی اور پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم کی توہین کا ازالہ کرنا ہوگا‘

    Node ID: 568431

  • قومی مفاد کے لیے نواز شریف کے پاؤں پکڑنے کو بھی تیار ہوں: شہباز شریف

    Node ID: 569116

اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق اگلے روز چین جانے والے تھے۔ ان کے سٹاف نے تین گھنٹے کے نوٹس پر اخباری نمائندوں کو پریس کانفرنس کی اطلاع دی۔ رپورٹرز نے غیر ملکی دورے کے بارے میں روایتی بریفنگ سمجھ کر اس کو اہمیت نہ دی اور خبر کے تلاش میں ایئرپورٹ جا پہنچے۔ 
ادھر محمد خان جونیجو ایئرپورٹ سے پرائم منسٹر ہاؤس پہنچ گئے۔ لان میں بیٹھے چائے پینے کی تیاری کر رہے تھے کہ ایوان صدر کا ایک جوائنٹ سیکرٹری تیزی سے ان کی طرف آیا اور بولا کہ ’سر ایک بری خبر ہے۔ ضیاء الحق نے آپ کی حکومت برطرف کر دی ہے۔‘
جونیجو کے لیے یہ الفاظ کسی دھماکے سے کم نہ تھے۔ وہ کسی ردعمل کا اظہار کیے بغیر ننگے پاؤں چلتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ 
محمد خان جونیجو کی ایوان وزیراعظم میں آمد اور روانگی دونوں دھماکا خیز اور غیر متوقع تھیں۔
سنہ 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کے بعد ضیاءالحق نے انتقال اقتدار کے بجائے شراکت اقتدار کے لیے ان کا انتخاب کیا۔ بہت سے بارسوخ اور طاقتور سیاسی شخصیات کی موجودگی میں ایک نسبتاً کم معروف سندھی سیاستدان کے وزیراعظم بننے کو اس دور میں ایک سیاسی انہونی سمجھا گیا۔ عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا نام مارچ 1985 میں بحثیت وزیراعظم پہلی بار سامنے آیا۔ 
مگر امریکہ میں مقیم 50 سال سے زائد صحافت میں سرگرم رہنے والے عارف الحق عارف اس عمومی تاثر کے برعکس رائے رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ محمد خان جونیجو پیر پگاڑا کے مرید خاص تھے۔ مغربی پاکستان کی اسمبلی کے رکن رہ چکے تھے۔ اس کے علاوہ ریلوے کی وزارت کا تجربہ بھی تھا۔

ضیاء الحق نے انتقال اقتدار کے بجائے شراکت اقتدار کے لیے ان کا انتخاب کیا۔ (فوٹو: فلکر)
عارف الحق نے ایک ملاقات میں پیر پگاڑا کے سامنے ایک مفروضے کے طور پر محمد خان جونیجو کا نام بھی لے لیا۔ پیر پگاڑا نے ان کا نام سن کر جواب دیا کہ ’میں اپنا وزیراعظم ادھار دے سکتا ہوں اگر چل گیا تو ٹھیک نہیں تو واپس لے لوں گا۔‘ 
10 مارچ 1985 کو صدر ضیاء الحق نے آئین کی بحالی کا فرمان جاری کیا۔ اس کے تحت صدر کو اپنی صوابدید پر قومی اسمبلی کے اراکین میں سے وزیراعظم کی نامزدگی کا اختیار حاصل تھا۔
وہ منقسم اور آزاد اسمبلیوں کے ذریعے اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کے خواہش مند تھے۔ 23 مارچ 1985 کو انہوں نے محمد خان جونیجو کو وزیراعظم نامزد کر دیا ۔
 عارف الحق عارف کے مطابق اس فیصلے کے محرکات میں  پیرپگاڑا کے حمایت یافتہ امیدواروں کی اسمبلی میں اکثریت اور ایم آر ڈی کی تحریک کے نتیجے میں سندھ میں عوامی بے چینی اور غصے کے جذبات کو ٹھنڈا کرنا شامل تھا۔
’جمہوریت کا پودا مارشل لا کے درخت تلے پروان چڑھے گا‘ ضیاء الحق کا یہ بیان نئی سویلین حکومت کو تابع اور مطیع رکھنے کی خواہش کا آئینہ دار تھا۔ کم گو اور منکسر المزاج جونیجو اس کے لیے موزوں سمجھے گئے۔
اپنے انتخاب کے اگلے روز اسمبلی کے فلور پر جب ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ ’سویلین حکومت مارشل لا کے ساتھ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔ اس لیے جتنا جلدی ممکن ہو مارشل لا اٹھا لیا جائے‘ تو سیاسی محرکات پر نگاہ رکھنے والوں کو احساس ہوا کہ وہ اتنے بھی تابع فرمان ثابت نہیں ہوں گے۔ 
اسی سال اکتوبر میں آئین میں آٹھویں ترمیم کے بل پر قومی اسمبلی میں بحث ہوئی۔ آزاد پارلیمانی گروپ نے آئینی ترامیم کے بل میں ترامیم تجویز کرنی شروع کر دیں۔ وزیراعظم نے اگرچہ ان کی حمایت نہیں کی مگر ان کے معتدل رویے کی وجہ سے ضیاء الحق کو بہت سارے نکات پر مصلحت دکھانی پڑی۔

محمد خان جونیجو نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ پاس کروایا جس میں سنہ 1979 کے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترامیم کی گئیں۔ (فوٹو: فلکر)
معروف قانون دان حامد خان ایڈوکیٹ اپنی کتاب ’پاکستان کی آئینی و سیاسی تاریخ‘ میں اسے محمد خان جونیجو کی جمہوریت اور آئین نوازی قرار دیتے ہیں۔
نومنتخب وزیراعظم کی کابینہ میں تجربہ کار سیاستدان اور ٹیکنوکریٹس شامل تھے۔ آنے والے دور میں وزیراعظم پاکستان رہنے والے ظفر اللہ خان جمالی اور سید یوسف رضا گیلانی ان کی ابتدائی کابینہ کا حصہ تھے۔
21 وزرا کی بھاری بھر کم کابینہ میں انہوں نے آنے والے وقت میں تین بار تبدیلیاں کیں۔ ان کا چونکا دینے والا اور غیر متوقع فیصلہ ضیاء الحق کے نامزد کردہ تین ٹیکنوکریٹس ڈاکٹر محبوب الحق، ڈاکٹر اسد اور ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ کو مختلف اوقات میں ان کے عہدوں سے ہٹانا تھا۔
محمد خان جونیجو کے معاون خصوصی اور کابینہ کے رکن سرتاج عزیز اپنی کتابBetween Dreams and Realities  میں لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر محبوب الحق کو وزارت خزانہ سے ہٹا کر یاسین وٹو کو یہ منصب سونپا گیا۔ یہ ان کی آزادانہ اور خود مختاری کی سوچ کو ظاہر کرتا تھا۔
ان کے مطابق محمد خان جونیجو نے شناخت سے محروم اور بحرانوں سے نیم مردہ ہو جانے والی مسلم لیگ کا احیا کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں ’آفیشل پارلیمانی گروپ‘ کے نام سے ممبران کی اکثریت کو مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی میں تبدیل کرنے کا سہرا محمد خان جونیجو کے سر ہے۔ 
انہوں نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ پاس کروایا جس میں ضیاء الحق کے سنہ 1979 کے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترامیم کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں وہ آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور پارلیمانی پارٹی کے سربراہ بن گئے۔
اسی طرح اب بنیادی حقوق کی بحالی اور ایمرجنسی کے خاتمے نے سیاسی جماعتوں کے لیے تنظیمی سرگرمیوں کی راہ کھول دیں۔ پیپلز پارٹی کی جلاوطن رہنما بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی نے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کر دی۔

بے نظیر بھٹو نے ایک سیاسی حکمت عملی کے تحت وزیراعظم سے زیادہ صدر پر تنقید شروع کر دی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سرتاج عزیز کے مطابق 10 اپریل 1986 کو بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر ضیاء الحق کی منشا کے برعکس جونیجو حکومت نے نرم رویے کا مظاہرہ کیا اور ان کے استقبالیہ جلوس میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ ڈالی۔
بے نظیر بھٹو نے ایک سیاسی حکمت عملی کے تحت وزیراعظم سے زیادہ صدر پر تنقید شروع کر دی۔
حامد خان لکھتے ہیں کہ ’بے نظیر بھٹو کی اس حکمت عملی نے ضیاء الحق کو شک میں مبتلا کر دیا کہ جونیجو کسی نہ کسی طرح  بےنظیر سے ساز باز کر رہے ہیں۔‘
’بینظیر بھٹو کو صدر پر تنقید کی آزادی دی جا رہی ہے۔ کابینہ کے اکثر وزراء صدر کا دفاع نہیں کرتے۔ بدلے میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم پر تنقید سے اجتناب کرتی ہیں۔‘
مصنف کے نزدیک ضیاءالحق کو یہ بھی شک تھا کہ محمد خان جونیجو جان بوجھ کر ان کی حیثیت گھٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہیں سے دونوں کے درمیان انتظامی نوعیت کے اختلافات ابھرنا شروع ہوں گے۔ 
دسمبر 1985 میں مارشل لا کے خاتمے کے بعد صدر اور وزیراعظم کے درمیان پروٹوکول اور سٹاف پر محاذ آرائی شروع ہوئی۔ اس میں سکرٹریوں اور سفیروں کی تعیناتی اور حتیٰ کہ ’فالکن طیارے‘ کے استعمال جیسے معمولی نوعیت کے مسائل بھی شامل تھے۔
حامد خان کے مطابق صدر نے اکثر وزیروں اور ان کے سٹاف سے ان کے محکمے کے حوالے سے فوری نوعیت کے جوابات طلب کیے۔ رولز آف بزنس کے مطابق وزیر صدر کو وزیراعظم سیکریٹریٹ کے ذریعے جواب دینے کے پابند ہیں۔ جب یہ باتیں ضیاء الحق  کے علم میں لائی گئیں تو انہیں غصہ آ گیا اور انہوں نے محمد خان جونیجو کو اس تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ضیاء الحق آٹھ سالوں سے افغان پالیسی کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ (فوٹو: ٹی آر ٹی)
وزیراعظم محمد خان جونیجو کی طرف سے وزیروں، اعلیٰ فوجی افسروں اور سول بیورو کریسی کے افسران کو 800 سی سی گاڑیوں کے استعمال کے پابند کرنے کے فیصلے کو اس دور میں بہت سراہا گیا۔
اس غیر روایتی فیصلے پر عملدرآمد صرف چھ ماہ تک ممکن ہو سکا۔ اس دور کے ایک سینیئر بیوروکریٹ سید ارتقاء احمد زیدی اپنی آپ بیتی ’ارتقاء کہانی ایک سرکاری ملازم کی‘ میں لکھتے ہیں کہ اس دور کے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن اے جی این قاضی اپنی طویل القامتی کی وجہ سے 800 سی سی کی سوزوکی کار میں مشکل سے پھنس کر بیٹھتے تھے۔ ان کے مطابق تھوڑے ہی عرصے میں بیوروکریسی نے مختلف توجیہات اور بہانوں سے وزیراعظم کو یہ فیصلہ ختم کرنے پر قائل کر لیا۔ 
ان تمام واقعات کا تعلق انتظامی، سیاسی اور قانونی معاملات سے تھا۔ تاہم جونیجو حکومت کی رخصتی کے حتمی سفر کا آغاز نومبر 1987 سے ہوا۔ اس کا تعلق افغانستان سے روسی افواج کے انخلا سے تھا۔
ضیاءالحق اپنے قریبی مشیروں کی مدد سے آٹھ سالوں سے افغان پالیسی کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ ادھر وزیراعظم یہ سمجھتے تھے کہ منتخب عوامی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے انہیں آزادانہ خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے۔
وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خان ضیاء الحق سے قربت کی وجہ سے خارجہ پالیسی میں ان کی ترجیحات اور مفادات کو مقدم رکھتے تھے۔
دفاعی تجزیہ نگار شجاع  نواز اپنی کتاب Cross Swords میں لکھتے ہیں کہ سنہ 1987 میں کچھ امریکی عہدیدار افغانستان میں روسی انخلا  کے بعد سابق بادشاہ ظاہر شاہ کو کابل حکومت کا سربراہ بنانے کا مجوزہ منصوبہ لے کر پاکستان آئے۔
پاکستانی وزیر خارجہ اس منصوبے کو افغان مسئلے کا حل سمجھتے تھے۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو نے محسوس کیا کہ یہ منصوبہ ان سے بالا ہی بالا طے کیا جا رہا ہے۔ اسی سوچ کے زیراثر انہوں نے صاحبزادہ یعقوب علی خان کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا۔
سنہ 1988 کی پہلی سہ ماہی میں دو واقعات سے طاقت کے ان دو مراکز کے درمیان ناقابل عبور خلیج حائل ہو گئی۔ جس نے آگے چل کر وزیراعظم کی قسمت کا فیصلہ کیا۔

محمد خان جونیجو نے افغانستان کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس میں نہ بلائے جانے پر جوابی حکمت عملی اختیار کی۔ (فوٹو: فلکر)
پہلے واقعے کا تعلق پاکستان کے اعلی فوجی اور سول اہلکاروں کا افغان مسئلہ کے حل کے بارے میں امریکی اور روسی اہلکاروں کے ساتھ ایک مشترکہ میٹنگ کے حوالے سے تھا۔
سرتاج عزیز کے مطابق اس میٹنگ میں صدر، اعلیٰ فوجی افسروں کے ساتھ ساتھ سول اہلکاروں نے بھی شرکت کی۔ سول اہلکاروں میں غلام اسحاق خان، ڈاکٹر محبوب الحق اور وہ خود شامل تھے۔
ان کے مطابق اس اعلی سطحی میٹنگ میں وزیراعظم کو نہ بلانا معنی خیز تھا۔ وزیراعظم کے بے اختیار ہونے کا احساس اور گہرا ہو گیا اور انہوں نے جوابی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ 
مارچ 1988 میں افغان مسئلے کے حل کے سمجھوتے کا آخری مرحلہ درپیش تھا۔ وزیراعظم نے مشاورت کے لیے آل پارٹیز کانفرنس طلب کی۔ تمام سیاسی قیادت بشمول بے نظیر بھٹو کی شرکت سے جونیجو نے نظر انداز کیے جانے کے تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی۔ دلچسپ بات ہے کہ اس کانفرنس میں صدر ضیاءالحق کو مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔ 
قومی سیاسی قیادت کے مثبت ردعمل نے وزیراعظم کا حوصلہ بڑھا دیا۔ انہوں نے زین نورانی کو وزارت خارجہ کا انچارج بنا کر جنیوا بھیج دیا۔ یوں مشہور زمانہ جنیوا معاہدے پر پاکستان نے بھی دستخط کیے۔ جونیجو کے اس اقدام نے ضیاء الحق کو آگ بگولا کر دیا۔
10 اپریل 1988 کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع اوجڑی کیمپ میں بارودی ذخیرے میں دھماکوں اور جانی نقصان نے ساری دنیا کی توجہ حاصل کر لی۔ 
عوامی رد عمل اور بے چینی کے سبب وزیراعظم نے اسلم خٹک کی سربراہی میں اس حادثے کے اسباب جاننے کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کی۔ سرتاج عزیز کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ کے حوالے سے مختلف افواہوں  نے جنم لیا جن میں ضیاء الحق کے کچھ قریبی مصاحبین کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ 

اپریل 1993 میں محمد خان جونیجو کی وفات کے بعد مسلم لیگ کی صدارت نواز شریف کے حصے میں آ گئی۔ (فوٹو: نیوزلائن)
اسی دوران آٹھ جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا۔ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اس رپورٹ کے حوالے سے اسمبلی میں گرما گرم بحث ہوگی۔ یہ افواہیں صحیح تھیں یا غلط مگر انہوں نے جونیجو حکومت کی رخصتی کے راستے سے آخری رکاوٹ بھی ہٹا دی۔
حکومت کی برطرفی کے اگلے روز ضیاء الحق نے اپنی نشری تقریر میں وزیراعظم کے خلاف پوری چارج شیٹ پڑھ کر سنائی۔ اس میں اقربا پروری، رشوت ستانی، معاشی بحران، لسانی اورعلاقائی اختلافات، امن و امان کے مسائل، سیاسی کرپشن، پارلیمانی نظام کی ناکامی اور اسلامائزیشن کے عمل میں حکومت کی عدم دلچسپی سمیت دیگر وجوہات بیان کی گئیں۔ صدر مملکت نے وزیراعظم کے بغیر کابینہ بھی تشکیل دی۔ 16 نومبر 1988 کو انتخابات کا اعلان بھی کیا گیا۔
ضیاءالحق اس نیم جمہوری تجربے کے اثرات سے بھی خوش نہ تھے۔ سرتاج عزیر کتاب میں لکھتے ہیں کہ ضیاء الحق نے ذہن بنا لیا تھا کہ اگر آئندہ غیر جماعتی انتخابات میں ان کی مرضی کے نتائج نہ آئے تو وہ ایک بار پھر آئین کو معطل کر کے مارشل لا یا ایمرجنسی لگا کر تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔
وزیراعظم اور اسمبلیوں کی برطرفی کے حکم کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ فل بینچ نے محمد شریف بنام وفاق پاکستان کیس میں صدارتی اقدام کو غیر آئینی قرار دیا۔ البتہ عدالت نے داد رسی کے سوال پر اسمبلی اور کابینہ کو بحال کرنے سے انکار کر دیا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاق پاکستان بنام حاجی سیف اللہ خان کیس میں اسمبلی تحلیل کے اقدام کو بلا جواز قرار دیا۔ یہاں بھی داد رسی کے سوال پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔
محمد خان جونیجو کی حکومت سے رخصتی کے بعد مسلم لیگ پر ان کی تنظیمی گرفت ڈھیلی ہو گئی۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ نواز شریف کے حمایتیوں نے فدا محمد خان کی قیادت میں اپنا علیحدہ گروپ قائم کر لیا۔
انتخابات سے کچھ عرصہ قبل دونوں میں اتفاق رائے بھی ہوگیا مگر محمد خان جونیجو بتدریج پس منظر میں جاتے گئے۔ سنہ 1990کے انتخابات کے بعد نواز شریف وزیراعظم بن گئے اور اپریل 1993 میں محمد خان جونیجو کی وفات کے بعد مسلم لیگ کی صدارت نواز شریف کے حصے میں آ گئی۔