32 سال پہلے جب روسی فوج افغانستان سے نکلی

11 جولائی ، 2021

افغانستان سے سابق سویت یونین کے آخری سپاہی کا انخلا فروری 1989 کو ہوا تھا۔ سابق سوویت کی افواج نو سال سے زیادہ عرصے تک افغانستان میں رہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ان تصاویر میں سابق سوویت یونین افواج کا انخلا، فوجیوں کے گھر لوٹنے کی خوشی، افغان بچوں کا الوداع اور اپنے بیٹے کی واپسی کے لیے ایک منتظر ماں کے تاثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔

اکتوبر 1986 میں افغان بچے شین ڈنڈ کے علاقےمیں سابق سویت یونین کےافواج کو الوداع کہتے ہوئے۔ افغانستان سے سوویت افواج کے انخلا کو تقریباً  30 برس گزر چکے ہیں۔

سابق سوویت یونین کے ٹینکوں کا یہ قافلہ جلال آباد سے کابل کی جانب گامزن تھا۔ یہ قافلہ بھی انخلا کا حصہ تھا۔

فروری 1989 میں سابق سوویت یونین کے یہ فوجی اخبار کی اس خبر پر خوش تھے جس میں کہا گیا کہ تھا کابل میں موجود فوجیوں کا انخلا فروری 1989 میں ہوگا۔

یہ ازبک خاتون اپنے فوجی بیٹے کے لیے رو رہی تھیں، ان کی یہ تصویر مارچ 1989 میں ازبکستان کے ترمذ شہر کے قریب لی گئی۔ یہ خاتون اپنے بیٹے کو فوجیوں کے درمیان ڈھونڈ رہی تھیں۔

کابل میں برقع پہنے افغان خاتون ایک بینر کے قریب سے گزرتے ہوئے۔ جس پر لکھا گیا ہے ’سوویت بھائیوں کا شکریہ اور الوداع۔‘

یہ 13 فروری 1989 کابل میں سوویت یونین کا آخری فوجی تھا جو طیارے کے روانہ ہونے سے پہلے ہاتھ ہلا رہا تھا۔

یہ وہ فوجی تھے جو ازبکستان کے شہر ترمذ پہنچے تھے۔ سامان پکڑے یہ فوجی ایک ٹرین کی جانب رواں دواں ہیں۔

شین ڈنڈ افغانستان میں یہ فوجی جانے سے پہلے افغان بچوں سے مل رہا تھا۔

شین ڈنڈ میں ہی سابق سوویت افواج کو رخصت کرنے لیے افغان نوجوان بھی اکھٹے ہوئے تھے۔

یہ افغان ورکرز سابق سوویت جہاز سے آٹے کی سپلائی اتارتے ہوئے۔

سوویت افغان سرحد کے قریب فوجیوں کے ہیلمٹ۔

ایک افغان دکاندار جس نے سوویت کاوییار کی ڈبیا پکڑی ہے، یہ صرف سات ڈالر میں بلیک مارکیٹ میں وافر مقدار میں دستیاب تھی۔

قراقل کی ٹوپی پہنے یہ افغان بچہ پیچھے رہ جانے والے اسلحے کے ساتھ کھیلتے ہوئے۔

کابل کے قریب پغمان کے علاقے میں فوجی چوکی کے قریب سینکڑوں خالی شیل زمین پر پڑے ہیں۔ یہ فوجی 122 ایم ایم توپ کے لیے ہدایات کے منتظر تھے۔

جنوری 1987 میں افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد کے بازار میں سوویت یونین کے یہ دو فوجی گشت کر رہے تھے۔