’4 وزارتیں،پی ٹی آئی فارغ‘، جے یو آئی بلوچستان حکومت میں شامل ہو سکے گی؟

جے یو آئی کا کہنا ہے کہ وزیراعلٰی نے انہیں حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے (فوٹو: فیس بک، بلوچستان اسمبلی)

بلوچستان میں ایک بار پھر سیاسی محاذ پر ہلچل ہو رہی ہے۔ چار برسوں سے حزب اختلاف کے بینچوں پر بیٹھی مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علما اسلام صوبائی حکومت کا حصہ بننے جا رہی ہے لیکن اس سے پہلے وزارتوں کی تعداد اور مطلوبہ محکموں کے قلمدانوں پر وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ جاری مذاکرات میں ڈیڈ لاک قائم ہے- 
جمعیت علما اسلام کے رکن بلوچستان اسمبلی عبدالواحد صدیقی کے مطابق ’ہمیں وزیراعلٰی عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے جبکہ مرکزی قیادت نے بھی جے یو آئی کے صوبائی اراکین اسمبلی کو بزنجو حکومت میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔‘
مزید پڑھیں
ان کا کہنا ہے کہ ‘ہماری جماعت نے مولانا عبدالواسع کی سربراہی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ اور رکن اسمبلی یونس عزیز زہری پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی ہے۔’
انہوں نے بتایا کہ اب یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ جمعیت کس حیثیت سے حکومت میں شامل ہو گی۔ کمیٹی صوبائی حکومت سے مذاکرات کر رہی ہے جس میں چھ مطالبات پیش کیے گئے ہیں تاہم ان مطالبات کے بارے میں انہوں نے تفصیل نہیں بتائی۔
اردو نیوز کو حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ جے یو آئی نے کم از کم چار وزارتیں مانگی ہیں- 

ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کی شرط کے باوجود عبدالقدوس بزنجو پی ٹی آئی کےوزیر تعلیم نصیب اللہ مری کو کابینہ سے نہیں نکالنا چاہتے (فوٹو: اے پی پی)
سینئر صحافی اور تجزیہ کار عرفان سعید کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں عبدالقدوس بزنجو کے پاس اتنی وزارتیں دینے کی گنجائش نہیں۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اٹھارہویں ترمیم کے بعد بلوچستان کابینہ 12 وزارتوں اور پانچ مشیروں تک محدود رکھنے کی آئینی قدغن موجود ہے جبکہ اس وقت صرف  وزارت خزانہ خالی ہے۔‘
وزیراعلٰی جمعیت علما اسلام کو ترقی و منصوبہ بندی کی ایک وزارت دینے کو تیار ہیں جو اس وقت بلوچستان عوامی پارٹی کے نور محمد دمڑ کے پاس ہے۔ ماضی میں بھی یہ وزارت ایک طویل عرصہ تک جمعیت کے پاس رہی ہے- 
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلٰی قلمدانوں میں تبدیلی کرنے کے لیے تو تیار ہیں تاہم کابینہ سے کسی وزیر یا مشیر کو فارغ کرنے پر راضی نہیں۔
اس سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آرہی تھیں کہ وزیراعلٰی جمعیت کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے کابینہ سے اپنی ہی جماعت بی اے پی  اور اتحادیوں کے کچھ وزرا اور مشیروں کو فارغ کر رہے ہیں۔
تاہم بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان اور صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات سردار عبدالرحمان کھیتران نے اس کی تردید کی تھی۔
وزیراعلٰی عبدالقدوس بزنجو کہہ چکے ہیں کہ جے یو آئی کو اس کی عددی حیثیت کے مطابق کابینہ میں جگہ دی جائے گی۔
بلوچستان کے 65 رکنی ایوان میں جمعیت علما اسلام کے11 ارکان اسمبلی ہیں اور وہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ اپوزیشن کی دوسری اہم جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے 10 اراکین  ہیں- 

ذرائع کے مطابق سردار اختر مینگل نے وزیراعلیٰ کی جانب سے حکومت میں شمولیت کی پیشکش مسترد کر دی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو نے گزشتہ دنوں کراچی میں بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل سے ملاقات کرکے انہیں بلوچستان حکومت میں شمولیت کی دعوت دی تاہم اختر مینگل نے انکار کیا۔
تجزیہ کار عرفان سعید کہتے ہیں کہ جام کمال کو وزارت اعلٰی سے ہٹانے میں جے یو آئی اور بی این پی نے عبدالقدوس بزنجو کا بھر پور ساتھ دیا اور اس کے بدلے میں اب دونوں جماعتیں حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے بھی مراعات اور فائدے اٹھا رہی ہیں۔ 
ان کے بقول ’نئے انتخابات میں وقت کم رہ گیا ہے بی این پی مختصر وقت کے لیے حکومت میں آنے کو تیار نہیں کیونکہ سردار اختر مینگل کو پہلے ہی وفاقی حکومت میں شامل ہونے کے فیصلے پر پارٹی کےا ندر سے دباؤ کا سامنا ہے۔‘
تجزیہ کار جلال نورزئی کے مطابق ’عبدالقدوس بزنجو جے یو آئی کی جانب سے جام کمال اور باپ کے کچھ ناراض اراکین کے ساتھ ملکر تحریک عدم اعتماد کی ڈھکی چھپی کوششوں کے بعد کافی متحرک ہو گئے ہیں اور انہوں نے جے یو آئی کو خود حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ جام کمال اور باپ کے ناراض اراکین کو خوش کرنے کی کوششیں بھی شروع کر دی ہیں۔‘
سابق وزیراعلٰی جام کمال اپنے آبائی ضلع لسبیلہ کو تقسیم کرکے حب کے نام سے ایک اور ضلع بنانے کے اقدام پر قدوس بزنجو سے ناخوش ہیں۔ قدوس بزنجو نے حب کو ضلع بنا کر جام کے علاقائی حریف بھوتانی برادران (صوبائی وزیر سردار صالح بھوتانی اور رکن قومی اسمبلی سردار اسلم بھوتانی) کو سیاسی فائدہ پہنچایا- اب یہ نوٹیفکیشن واپس لینے کا عندیہ دے کر جام کمال کو اپنے قریب لا رہے ہیں۔
تاہم عرفان سعید سمجھتے ہیں کہ جے یو آئی بی این پی کی حمایت کے بغیر اور باپ پارٹی کے چند ناراض اراکین کے ساتھ مل کر عبدالقدوس بزنجو کے لیے اب مشکلات کھڑی نہیں کر سکتی۔
ان کے مطابق ‘باقی حلقے بھی ایسے موقع پر صوبے میں ہلچل نہیں چاہتے جب انتخابات کے لیے بہت کم وقت رہ گیا ہو۔’

جے یو آئی نے مولانا عبدالواسع کی سربراہی میں کمیتی بنائی ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)
ان کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی صورت میں بھی عبدالقدوس بزنجو کا متبادل تلاش کرنا بھی مشکل کام ہو گا کیونکہ جام کمال سے اپوزیشن جماعتیں خوش نہیں تھیں جبکہ بزنجو ترقیاتی فنڈز اور افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ سمیت دیگر اقدامات میں اپوزیشن اراکان کو نواز رہے ہیں- 
عرفان سعید کا کہنا ہے کہ ’جمعیت کے ارکان بلوچستان اسمبلی  نے مرکزی قیادت کے سامنے یہ نکتہ اٹھایا کہ جب وفاق میں پارٹی حکومت میں ہے اور مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے سمیت دیگر اہم رہنما وزارتیں سنبھالے ہوئے ہیں تو بلوچستان میں ہمیں کیوں حکومت میں شامل ہونے سے روکا جا رہا ہے-‘   
’جے یو آئی کے ایم پی ایز کا اصرار تھا کہ باپ پارٹی مرکز میں اتحاد میں شامل ہے تو بلوچستان میں باپ حکومت میں شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، یہی وجہ ہے کہ انہیں مرکزی قیادت سے گرین سگنل مل گیا ہے۔ جمعیت کے ایم پی ایز زیادہ سے زیادہ مراعات اور فائدے لے کر آئندہ انتخابات کے لیے ووٹ بینک کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔’
جے یو آئی کے ذرائع نے اردو نیوز کو بتایا کہ جمعیت علما اسلام نے ایک شرط پاکستان تحریک انصاف کے وزرا کو کابینہ سے فارغ کرنے کی شرط رکھی ہے تاہم عبدالقدوس بزنجو پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر تعلیم نصیب اللہ مری کو کابینہ سے نہیں نکالنا چاہتے۔ 
عرفان سعید کے  مطابق قدوس بزنجو جے یو آئی کو دستیاب مواقع کی ہی پیشکش کریں گے۔ وہ انہیں ایک وزارت اور کچھ پارلیمانی سیکریٹریز کے عہدے دینا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بی این پی عوامی سے منحرف ہو کر پاکستان نیشنل پارٹی بنانے والے صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ کے بارے میں بھی خدشات ہیں لیکن انہیں بھی وزارت سے ہٹانا قدوس بزنجو کے لیے آسان نہیں ہوگا کیونکہ احسان شاہ کو سردار اختر مینگل کی حمایت حاصل ہے۔ ان کی اہلیہ کو بی این پی نے سینیٹر منتخب کرایا۔